ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکی ایوان نمائندگان : تُرکوں کے ہاتھوں "آرمینیائی نسل کشی "سرکاری طور پر تسلیم

امریکی ایوان نمائندگان : تُرکوں کے ہاتھوں "آرمینیائی نسل کشی "سرکاری طور پر تسلیم

Wed, 30 Oct 2019 17:44:46    S.O. News Service

 دبئی  30اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) امریکا میں ایوان نمائندگان نے ایک تاریخی اقدام میں "آرمینیائی نسل کشی" کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا۔

اس حوالے سے منگل کے روز متعلقہ قرار داد 11 کے مقابلے میں 405 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور ہوئی تو ایوان تالیوں سے گونج اُٹھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کئی سابقہ کوششوں کے بعد اس نوعیت کی قرار داد رائے مشاری کے لیے کانگرس میں پہنچی۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ بیسویں صدی کی ایک سب سے بڑی سفاکیت کی یاد منانے میں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل ہیں ، ایک منظم قتل عام جس میں 15 لاکھ سے زیادہ آرمینیائی مرد، خواتین اور بچوں کو سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

آرمینیائی باشندوں کے نزدیک 1915 سے 1917 کے دوران ان کا اجتماعی قتل ،،، نسل کشی کی سطح تک پہنچ گیا۔ اس دعوے کو تقریبا 30 ممالک تسلیم کرتے ہیں جب کہ ترکی اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ "ہم نے 19 برس تک اس قرار داد پر رائے شماری کی جنگ لڑی ہے ... ہم اس آرمینیائی نسل کشی پر خاموش رہیں گے اور نہ اسے کبھی فراموش کر سکیں گے"۔

دوسری جانب سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان کی قرار داد کا خیر مقدم کیا۔ ایوان میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایلوٹ اینجل کے مطابق آرمینیائی نسل کشی کا تسلیم کیا جانا ایک ضروری اقدام ہے۔

یاد رہے کہ 1915 سے 1923 تک آرمینیائی باشندوں کو درپیش قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیے جانے کا معاملہ طویل عرصے سے امریکا میں موضوع بحث رہا ہے۔

کانگرس نے گزشتہ چند عشروں کے دوران کئی مرتبہ اسی نوعیت کی قرار داد حرکت میں لانے کی کوشش کی تاہم ان کوششوں کا نتیجہ مذکورہ نسل کشی کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی صورت میں سامنے نہ آ سکا۔ اس کا سبب ترکی کا دباؤ اور امریکی صدارتی انتظامیاؤں کا اندیشہ تھا جو نیٹو میں شامل حلیف ملک کو الگ تھلگ کرنے کے حوالے سے تشویش کا شکار رہیں۔


Share: